نئی دہلی ،13؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) بی جے پی نے آج کہا کہ کانگریس کے نو منتخب صدر راہل گاندھی کا انٹرویو گجرات انتخابات میں شکست کے خوف سے مایوسی میں اٹھایا گیا قدم ہے اور انہوں نے ریاست میں آخری مرحلے کی پولنگ سے ایک دن پہلے میڈیا کو انٹرویو دے کر انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی بھی کی ہے ۔ مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر لیڈر پیوش گوئل نے نامہ نگاروں سے کہا کہ ان انٹرویوز پر الیکشن کمیشن کو نوٹس لینا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ جیسا کہ راہل گاندھی نے کہا ہے، گجرات میں لہر ہے ؛لیکن یہ کانگریس کے خلاف ہے اور بی جے پی کو 182 سیٹوں میں نمبر 150 سیٹوں پر جیت حاصل ہوگی۔گوئل نے کہا کہ کانگریس کافی ڈر گئی ہے اور راہل گاندھی اپنا امیج بچانے کے لیے فکر مند ہوگئے ہیں اس لئے انہوں نے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی اور انٹرویو دیا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابات کے لیے آخری مرحلے کی پولنگ سے 48 گھنٹے پہلے ایسے انٹرویو کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔ ہم نے ایسا انٹرویو کبھی نہیں دیا۔جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلی مدھو کوڑاکی کو کوئلہ بلاک الاٹمنٹ معاملے میں عدالت کی طرف سے مجرم قرار دیئے جانے کو لے کر بی جے پی لیڈر نے اپوزیشن پارٹی پر نشانہ لگایا، ساتھ ہی کانگریس کے ایک سابق ممبر اسمبلی کے منی لانڈرنگ کیس سے مبینہ طور پر منسلک کرنے کا بھی ذکر کیاگوئل نے کہا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ کانگریس بدعنوانی کے خلاف مہم کو لے کر حکومت پر نشانہ لگا رہی ہے. کانگریس پارٹی کو اس موضوع پر پاک صاف ہوکر سامنے آنا چاہئے۔